ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابری مسجد کے مسئلہ کو مذاق بنادیا گیا ہے: اسدالدین اویسی ۔روی شنکرملک کوگمراہ کررہے ہیں:مولانامحمدولی رحمانی

بابری مسجد کے مسئلہ کو مذاق بنادیا گیا ہے: اسدالدین اویسی ۔روی شنکرملک کوگمراہ کررہے ہیں:مولانامحمدولی رحمانی

Fri, 17 Nov 2017 00:15:14    S.O. News Service

نئی دہلی،16؍نومبر (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا )دریں اثنا بیرسٹر اسدالدین اویسی ایم پی و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین نے ایک ٹی وی چینل کی جانب سے بابری مسجد مسئلہ پر نرموہی اکھاڑہ کے مہنت دینیندرداس کے اسٹنگ آپریشن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو مذاق بنادیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں دینیندر داس نے دعویٰ کیاتھاکہ سنی وقف بورڈکے ذمہ داروں سے بات چیت جاری ہے اوربورڈ کو ایک کروڑ سے 20کروڑ روپئے تک فراہم کرتے ہوئے بابری مسجد کے مقام پر مندر بنایا جائے گا۔ صدر مجلس نے کہا کہ مہنت کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ اتنی رقم ان کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ کیا ان کے پاس کوئی سونے کی کان ہے یا پھر ان کے پاس سے پٹرول نکل رہا ہے ؟ بیرسٹراسدالدین اویسی آج دارالسلام میں بابری مسجد کے مسئلہ پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔صدر مجلس نے کہا کہ سنی وقف بورڈ میں 10ارکان شامل ہیں۔ ان میں 2متولی ‘2وکلاء ایک رکن پارلیمنٹ اور ایک رکن اسمبلی بھی شامل ہیں۔ دینیندر داس کو یہ بتانا چاہئے کہ کس رکن سے ان کی بات ہوئی ہے۔صدر مجلس نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ عدالت میں زیرالتواء ہے ‘ یہ کوئی نجی جائیداد کا معاملہ نہیں ہے۔ دینندر داس کو چاہئے کہ وہ جھوٹ بولنا بند کردیں۔ ان کا یہ بیان ملک کو گمراہ کرنے کی سازش کے مترادف ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسجد کی اراضی کی رقم کون لے گا۔ کوئی بھی مسلمان اتنا گرنہیں سکتا۔ دینندر داس جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کے بیان سے حقیقت کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔صدر مجلس نے بابری مسجد معاملہ سری سری روی شنکر کی جانب سے ثالثی رول ادا کرنے اور مختلف فریقین سے بات چیت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ الٹی ہوگئی سب تدبیریں۔ غلاموں نے کچھ کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سری سری روی شنکر اس معاملہ کے حل کے لئے پھرتے رہیں لیکن کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے۔ یہ بات ہنوز واضح نہیں ہوسکی کہ سری سری روی شنکر نے اس سلسلہ میں کس سے بات کی ہے ؟ کیا انہوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر سے بات کی ہے یا پھر سنی وقف بورڈ کے چیرمین سے تبادلہ کیا ہے۔ حالانکہ مسلم پرسنل لابورڈ اور سنی وقف بورڈ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ روی شنکر سے وہ بات کرنا نہیں چاہتے۔صدر مجلس نے سری سری روی شنکر اور مہنت دینندر داس کو ’’جوکرس‘‘ سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرکس نہیں ہے ‘اس مسئلہ پر سنجیدگی ہونی چاہئے۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا ہے اور میڈیا میں نمایاں ہونا چاہتا ہے۔سری سری روی شنکر کی جانب سے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں سے بات چیت کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے اور وہ گمراہ کررہے ہیں جبکہ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے واضح کیا ہے کہ کسی نے بھی ان سے فون پر بات نہیں کی ہے اور نہ ہی ربط پیدا کیا ہے۔روی شنکر ملک کو گمراہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے دینندرداس کے اسٹنگ آپریشن پر کہا کہ ہیڈلائنس ٹوڈے کو چاہئے کہ وہ مہنت سے یہ پوچھے کہ یہ رقم کہاں سے آئی ہے ؟ بابری مسجد مسئلہ پر ہوا میں پتنگیں اڑانا ‘ گمراہ کرنے والے بیانات اور افواہیں پھیلانا بند ہونا چاہئے۔ اگر کسی کو بوکھلاہٹ ہوتو وہ قانونی طور پر دوسرے معاملہ پر اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کریں لیکن اس معاملہ پر سنجیدگی ہونی چاہئے کیونکہ یہ معاملہ عدالت کے زیردوراں ہے۔صدر مجلس نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسجد خریدی نہیں جاسکتی اور نہ ہی فروخت کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی سچا مسلمان اس بارے میں نہیں سوچ سکتا۔ وہ مہنت کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ہندوستان دیکھنا چاہتا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء4 یہ معاملہ ہندوستانی دستور اور شواہد کی بنیاد پر حل ہو نہ کہ ’’ انڈیا ٹوڈے۔ا?ج تک‘‘ کی بنیاد پر۔ انہو ں نے کہا کہ ہر کوئی ثالث بننا چاہتا ہے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہر کوئی نوبل انعام ‘میگسیسے ایوارڈ ‘پدمابھوشن ‘ بھارت رتن ایوارڈ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بیرسٹراسداویسی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ عدالت کے باہر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ صدر مجلس نے کہا کہ سری سری روی شنکر کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کے حل کے لئے کوششیں کرنے سے پہلے این جی ٹی کی جانب سے ان پر عائد کردہ 80لاکھ کا جرمانہ ادا کریں اس کے بعد امن کی بات کریں۔آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے کہا ہے کہ اب جب کہ بابری مسجد کی ملکیت کا مقدمہ سپریم کورٹ میں شروع ہونے والا ہے ، مقدمہ کو کمزور کرنے کی خطرناک ماحول سازی کی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کو اس جھانسے میں نہیں آناچاہئے۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہا کہ بابری مسجد کا تنازع ہندوستانی مسلمانوں کا بہت اہم اور حساس مسئلہ ہے ، ملت اسلامیہ کا متفقہ عقید ہ ہے کہ وہاں گذشتہ پانچ سوسال سے مسجد تھی جسے زبردستی ایک مذہب کے کچھ لوگوں نے رام جنم بھومی قراردینے کی کوشش کی ، اسے سیاسی رنگ دیکر بڑھاوادیاگیا یہاں تک ایک منحوس وقت وہ بھی ا?یا جب وہ مسجد شہید کرد ی گئی اوراب عدالت میں ملکیت کا مقدمہ زیر سماعت ہے ،5 دسمبرسے سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہورہی ہے لیکن افسوس کی بات ہے اس سے قبل مقدمہ کو کمزور کرنے کی خطرناک ماحول سازی کی جارہی ہے اور مسلمان بھی کسی حدت تک اس کے شکار ہورہے ہیں۔


Share: